داتا گنج بخشؒ


داتا گنج بخشؒ

نام ،نصب اور خدمات داتا گنج بخش :

                           داتا گنج بخش کانام “ابو الحسن علی  بن عثمان  الجلابی الہجویری”ہے اور آپ کا لقب “داتا گنج بخشؒ”ہے جو کہ آپ کی سخاوت ،علم اور روحانی فیضان کی وجہ سے مشہور ہوا۔ آپ کا تعلق غزنی(افغانستان) کے علاقے ہجویر سے تھا اس وجہ سے

“الہجویری “کہلایا ۔ آپ کی پیدائش 1009عیسوی کے قریب ہوئی۔

طالب علم سے ولی اللہ تک کا سفر داتا گنج بخش:

                                       بچپن سے ہی آپ علمِ دین اور تصوف کی طرف رغبت رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے استادوں سے قرآن ،حدیث ،فقہ اور تصوف کی تعلیم حاصل کی ۔ سلسلہ تصوف میں آپ کا تعلق سلسلہ چشتیہ کے قریب تھا،لیکن آپ کا اثر سلسلو ں میں نظر آتا ہے ۔ آپ نے علم کیلئے خراسان ، ترکستان ،عراق،حجاز اور شام کا سفر کیا ۔

لاہورکا سفر :

                آپ کو اہنے مشائخ کے حکم سے لاہور بھیجا گیا تھا کہ یہاں اسلام کی دعوت اورتصوف کا پیغام پہنچائیں ۔اس وقت لاہور ہندو اور عیسائی عقیدہ کا مرکز تھا ۔ آپ نے اپنے حسنِ اخلاق ،علمی بات چیت اور روحانیت کے ذریعےلوگوں کے دل جیت لئے۔

کرامات اور لقب “داتا گنج بخشؒ” :

                                                               آپکی سب سے بڑی پہچان سخاوت تھی۔ جو بھی آپ کے در پر آتا خالی ہاتھ واپس نہ جاتا ۔ آپ نے اپنی زندگی میں علم،نصیحت اور خدمات کو اپنا  شیوا بنایا ۔ اسی لوگ  آپ کو “داتاگنج بخشؒ” کہنے لگے ۔یعنی فیضان بانٹنے والا’

مشہور تصنیف “کشف المحجوب”:

                                                      آپ کا سب سے مشہور کام “کشف المحجوب ” ہے     ۔ جو تصوف پر پہلی مکمل کتاب ہے جو فارسی میں لکھی گئی ۔ اس میں آپ نے تصوف کے اصول ،سلسلے اور صوفیاءکرام کی حالت زندگی لکھی۔آج بھی یہ کتاب مدرسوں اور تصوف کی تعلیم میں قیمتی سمجھی جاتی ہے ۔

وصال اورعرس مبارک :

                                                آپ کا وصال 1072عیسوی کے قریب لاہور میں ہوا۔ آپ کا مزار پاک داتا صاحب کے نام سے مشہور ہے ۔جو ساؤتھ ایشاءکا سب سے بڑا صوفی مزار ہے۔ ہر سال صفرالمظفر میں 3دن تک چلنے والی 1روحانی محفل ہوتی ہے۔ اسمیں لنگر،قوالی،ذکر ،قرآن خوانی اور چادر پوشی ہوتا ہے ۔ لاکھوں لوگ اس محفل میں شامل ہوتے ہیں ۔

شاعری میں ذکر:

                           علامہ  محمد اقبالؒ نے بھی آپ کے دربار کا ذکر کچھ اس طرح کیا:

گنج بخش فیض عالم ،مظہر نورِ خدا

ناقصاں را پیر کامل،کاملاں را  رہنما

خلاصہ:

            داتا گنج بخش ؒ نے اپنی زندگی علم،عمل،سخاوت اورخدماتِ خلق میں گزری ۔

آپ کا مزار آج بھی روحانیت  کا مرکز ہے جہاں ہر مذہب اور ذات کے لوگ دعا اور برکت حاصل کرنے آتے ہیں ۔آ گے پڑھیے


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *