غازی علم الدین شہیدؒ برصغیر کی اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہیں جنہوں نے عشقِ رسول ﷺ کے تقاضے کو اپنی جان قربان کر کے پورا کیا۔ آپؒ کا نام تا قیامت عشقِ مصطفیٰ ﷺ کے پروانوں کے دلوں میں زندہ رہے گا۔

ابتدائی حالات غازی علم الدین شہیدؒ
غازی علم الدین شہیدؒ 4 دسمبر 1908ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام طاج دین تھا جو پیشے کے اعتبار سے بڑھئی (کارپنٹر) تھے۔ علم الدین ایک عام گھریلو ماحول میں پروان چڑھے۔ غربت کے باوجود آپ بچپن ہی سے نیک اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔
گستاخِ رسول کے خلاف غیرت ایمانی
1927ء میں ہندو ناشر راجپال نے حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخانہ کتاب شائع کی جس سے پورے برصغیر کے مسلمانوں کے دل زخمی ہوئے۔ مسلمانوں نے قانونی چارہ جوئی کی، جلسے جلوس نکالے اور انگریز حکومت سے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا، مگر انصاف نہ ملا۔
یہ صورتحال دیکھ کر 19 سالہ نوجوان علم الدین کا دل غیرتِ ایمانی سے بھڑک اٹھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اگر حکومت انصاف نہیں دیتی تو ایک عاشقِ رسول ﷺ اپنی جان قربان کر کے ہی یہ قرض ادا کرے گا۔ چنانچہ انہوں نے راجپال کو قتل کر کے ناموسِ رسالت ﷺ کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیا۔
گرفتاری اور مقدمہ غازی علم الدین شہیدؒ
علم الدین نے اس کارنامے کے بعد خود گرفتاری دے دی۔ انگریز حکومت نے ان پر مقدمہ چلایا۔ عدالت میں آپ نے کسی قسم کی صفائی یا پچھتاوے کا اظہار نہ کیا بلکہ فخر سے اپنے عمل کو عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا قرار دیا۔
پھانسی اور شہادت
غازی علم الدین کو سزائے موت سنائی گئی۔ 31 اکتوبر 1929ء کو میانوالی جیل میں آپ کو شہید کر دیا گیا۔ آپ کے جسدِ خاکی کو لاہور لایا گیا۔ علامہ اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ سمیت برصغیر کی نامور شخصیات نے آپ کے جنازے میں شرکت کی۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا:
“میں نے اپنی ساری زندگی میں اتنا بڑا عاشقِ رسول ﷺ نہیں دیکھا جتنا علم الدین تھا۔”
اثرات اور وراثت
غازی علم الدین شہیدؒ کی قربانی نے برصغیر کے مسلمانوں میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع کو مزید روشن کیا۔ آپ کی شہادت نے تحریکِ پاکستان کو ایک نئی روح بخشی اور مسلمانوں کو اپنی دینی غیرت کا احساس دلایا۔ آج بھی آپ کا نام سنتے ہی دلوں میں عشق و عقیدت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
نتیجہ
غازی علم الدین شہیدؒ کی قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ناموسِ رسالت ﷺ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک 19 سالہ نوجوان نے پوری دنیا کو بتا دیا کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ کی عزت و حرمت پر اپنی جان قربان کرنا سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔آگے پڑھیے

One response to “غازی علم الدین شہیدؒ”
I recently visited ez777web, and it’s honestly pretty awesome! Clean design and easy to navigate. Definitely a plus in my book! Check it out: ez777web