بابا بلھے شاہ



بابا بلھے شاہ

ابتدائی زندگی

بابا بلھے شاہ کا اصل نام عبداللہ شاہ قادری تھا۔ آپ 1680ء میں اوچ گیلانیاں، ضلع بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصے بعد آپ کے والد صاحب، جو ایک نیک اور عالمِ دین تھے، قصور منتقل ہوگئے۔ بلھے شاہ نے بچپن ہی میں قرآنِ پاک، عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ شروع ہی سے آپ کی طبیعت علم، روحانیت اور تصوف کی طرف مائل تھی۔


بابا بلھے شاہ مرشد کی صحبت

بلھے شاہ نے اپنی زندگی کا اصل رخ اس وقت پایا جب وہ حضرت شاہ عنایت قادری رحمتہ اللہ علیہ کے مرید بنے۔ شاہ عنایت قصور کے ایک عظیم صوفی بزرگ تھے۔ بلھے شاہ نے اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے اپنے مرشد کی صحبت اختیار کی اور ہمیشہ ان کی اطاعت کو زندگی کا سرمایہ بنایا۔ وہ اپنے کلام میں بارہا اپنے مرشد کے ذکر کو بیان کرتے ہیں اور انہیں اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔


بابا بلھے شاہ شاعری اور کلام

بلھے شاہ کی شاعری سادہ پنجابی زبان میں ہے جو عام آدمی کے دل کو فوراً چھو لیتی ہے۔ ان کے کلام میں عشقِ حقیقی، انسانیت، امن اور محبت کا پیغام چھپا ہوا ہے۔

اہم موضوعات درج ذیل ہیں:

  1. عشقِ حقیقی – اللہ تعالیٰ سے بے لوث محبت۔
  2. انسان دوستی – سب انسانوں کو برابر سمجھنا، ذات پات کا انکار۔
  3. ریاکاری کی مخالفت – مذہبی رسم و رواج میں کھو جانے والے علماء اور زاہدین پر تنقید۔
  4. دل کی صفائی – عبادات اور ظاہری دکھاوے سے زیادہ دل کی پاکیزگی پر زور۔
  5. امن و محبت – مذہب، نسل یا فرقے کی بنیاد پر نفرت کو مسترد کرنا۔

بلھے شاہ کا کلام آج بھی قوالی، گائیکی اور صوفی محافل میں پڑھا جاتا ہے۔ نصرت فتح علی خان، عابدہ پروین اور دیگر فنکاروں نے ان کے اشعار کو دنیا بھر میں مشہور کیا۔


پیغام اور فلسفہ

بابا بلھے شاہ کا فلسفہ محبت اور انسانیت پر مبنی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل دین صرف اللہ کی محبت اور بندوں کے ساتھ خیرخواہی ہے۔ ان کے نزدیک ذات پات، تعصب اور مذہبی شدت پسندی انسان کو رب سے دور کر دیتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ انسان اپنے دل کو آئینہ بنائے اور اس میں رب کو تلاش کرے۔


وفات

حضرت بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے 1757ء میں قصور میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار قصور میں واقع ہے جو آج بھی زائرین اور عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ آپ کے عرس میں شریک ہو کر فیض پاتے ہیں۔


نتیجہ

بابا بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی اور شاعری ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ:

اللہ کی محبت سب سے بڑی حقیقت ہے۔

انسانیت اور محبت ہی اصل عبادت ہے۔

نفرت، تعصب اور ریاکاری سے بچنا چاہیے۔

دل کو صاف رکھ کر اللہ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے۔مزید آگے


One response to “بابا بلھے شاہ”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *